کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 87

میزان الاعتدال میں ہے : قال ابن خراش لا یعرف الا بحدیث ابی سلمة یعنی فی شهر رمضان وقال یحي بن معین لیس حدیثه بشئ وعلل البخاری والدارقطنی حدیثہ بانه رواه یحي بن سعید والزهری ویحي بن ابی کثیر عن ابی سلمة عن ابی هریرة لکنه لم یذکر وسننت لکم قیامه (ص۲۳۴ ج ۳) لیجئے ! اب تو جڑ ہی کٹ گئی نخل آرزو کی ۔ قولہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ تہجد کی رکعات بالاتفاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و ماثور ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ مع الوتر تیرہ او رکم سے کم سات مع الوتر ہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔ برخلاف تراویح کے کہ اس کا کوئی معین عددعلامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ کی تصریح کے بموجب آنحضرتؐ سے منقول نہیں ہے ۔ (ص۔۔۔) ج : پچھلے صفحات میں ہم نے آپ کے اس فریب کا پردہ چاک کر دیا ہے اور

  • فونٹ سائز:

    ب ب