کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 9

 بالکل انوکھا اور نرالا ہے ۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے اس کی تائید ہوتی ہے اور نہ صحابہ رضی اللہ عنہ و ائمہ دین سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ مولانا کے اس دعوے میں کہاں تک صداقت ہے ۔ اس کی حقیقت تو آئندہ صفحات میں اپنے موقعہ پر انشاء اللہ اس طرح منکشف ہو کر آپ کے سامنے آئے گی کہ آنکھوں کے پردے کھل جائیں گے ، لیکن سر دست ہم مولانا مئوی سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب آپ کو یہ شکایت ہے کہ : ’’ہندوستان کے فرقہ  اہل حدیث نے رکعات تراویح کے باب میں تقریباً سو برس سے جو شور و غوغا مچا رکھا ہے اس کا وجود پہلے کبھی نہیں تھا ۔ تمام دنیائِ اسلام میں بیس یا بیس سے زیادہ رکعتیں پڑھی جاتی تھیں اور باہم کوئی رسالہ بازی یا اشتہار بازی نہیں ہوتی تھی۔‘‘ (رکعات ص ۱ ) حنفی مذہب چھپانے کا راز توآخر اس میں کیا راز ہے کہ آپ جیسے متعصب اور غالی حنفی نے اس موقعہ پر حنفیہ کے مسلک کو دوسرے مسلکوں میں مدغم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہندوستان کے اہل حدیثوں کا ’’ شور غوغا ‘‘ تو ہندوستان کے حنفیوں ہی کے خلاف ہے جو تراویح کی آٹھ رکعتوں کے سنت ہونے کا انکار کرتے ہیں اور صرف بیس

  • فونٹ سائز:

    ب ب