کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 91

مطابق اپنا یہ وظیفہ الگ بھی کرنا چاہتا ہے تو اب تراویح کے ساتھ وتر پڑھ کر اس کو تہجد سے الگ نہ کرے ورنہ پھر تہجد کا خاتمہ بھی وتر پر کرنا پڑے گا ۔ تو ایک ہی شب میں دو وتر پڑھنا لازم آئے گا ۔ بلکہ اپنے معتاد تہجد کو تراویح ہی کی رکعات میں شامل کر کے تراویح کی رکعات کی تعداد بڑھا دے ۔ اس کے بعد آخر میں وتر پڑھے امام احمد کے نزدیک تراویح ایک ایسی نماز ہے کہ اس کی رکعات میں تکثیر کی کافی گنجائش ہے جیسا کہ اس اثر سے معلوم ہوتا ہے : قال اسحٰق بن منصور قلت لاحمدبن حنبل کم من رکعة فی قیام شهر رمضان فقال قیل فیه الوان نحوا من اربعین انما هو تطوع انتهی ۔ (قیام اللیل للمروزی ص۹۲) الغرض نہ امام بخاری علیہ الرحمۃ کے معمول سے اور نہ مقنع کے جزئیہ سے اور نہ امام احمد رحمہ اللہ کے فتویٰ سے ، کسی سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ دونمازیں ہیں ۔ یہ محض علامہ مئوی کی ہوس ہی ہوس ہے ۔ قولہ : تراویح او رتہجد میں مغائرت کے وجوہ اور بھی ہیں ، لیکن بنظراختصار انہی تین وجہوں پراکتفا کرتا ہوں ۔ (رکعات ص۱۵) ج: بہت سے وجوہ میں سے آپ نے یہ ’’ تین وجہیں ‘‘ خاص طور سے منتخب کر کے پیش کی ہیں ، لیکن ان تینوں کا حشر آپ کو معلوم ہو گیا تو باقی وجہوں کا انجام بھی انہی پر قیاس کر لیجئے ۔ ؎ ع قیاس کن زگلستانِ من بہار مرا قولہ : اور اب احناف کے اطمینان کے لئے عرض کرتا ہوں کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی دونوں میں مغائرت کے قائل ہیں ۔ (ص =)

  • فونٹ سائز:

    ب ب