کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 92

ج : لیکن عوام میں ہی نہیں بلکہ خواص احناف (جن میں خود مولانارشید احمد گنگوہی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی بھی داخل ہیں ) کے اطمینان کے لئے عرض کرتاہوں کہ حضرت امام محمد بن حسن شیبانی ان دونوں میں مغائرت کے قائل نہیں ہیں ، کیوں کہ وہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہ : (ما کان یزید فی رمضان ولا فی غیره علی احدی عشرة رکعة) میں تراویح کو بھی داخل سمجھتے ہیں ، جس کی تفصیل ہم پہلے بیان کر چکے۔ فلیرجع الیہ ۔ دیو بندیوں کے مزید اطمینان کے لئے عرض کرتا ہوں کہ مولانا انور شاہ کشمیری مرحوم بھی ان دونوں میں مغائرت کے قائل نہیں ہیں اورانہوں نے نہایت مدلل طور پر دونوں کا ایک ہونا ثابت کیا ہے اورمخالفین کے دلائل کا رد بھی کیا ہے ۔ جس کو فیض الباری کے حوالے سے ہم پہلے ذکر کر چکے نا مناسب نہ ہوگا اگر اس موقع پر ہم مولانا محمد منظور نعمانی کی ایک تحریر کا کچھ اقتباس پیش کریں جس سے اندازہ ہو سکے گا کہ علماء دیوبند کی نگاہوں میں مولانا انور شاہ کے علم و فضل اور فہم و فراست کا کیا درجہ ہے ۔ مولانا نعمانی لکھتے ہیں : ’’استاذنا مولانا محمد انور شاہ کشمیری نَوَّر اللہ مرقدہٗ جن کے متعلق بس جاننے والے ہی جانتے ہیں کہ علم و تفقہ اور ورع و تقوی میں ان کا مقام ہمارے اس دور کے خواص میں بھی کتنا بلند تھا ۔ حضرت مولانا شبیر احمد صاحب نے اپنی شرح مسلم میں ایک جگہ ان کے بارے میں جو یہ تحریر فرمایا ہے کہ : لم تر العیون ولم یر هو نفسه مشله یعنی اس زمانے کے لوگوں کی آنکھوں نے ان کی کوئی اور نظیراور مثال

  • فونٹ سائز:

    ب ب