کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 98

علامہ ابن الہمام لکھتے ہیں : واختلف فی ادائها (ای فی اداء التراویح) بعد النصف فقیل یکره لانها تبع للعشاء کسنتها والصحیح لا یکره لانها بعد صلوة اللیل والافضل فیها اخره انتهی (فتح القدیر ج ۱ ص ۲۰۶) در مختار میں ہے : ووقتها صلوٰة العشاء الاخرة الی الفجر قبل الوتر وبعده فی الاصح اسی طرح ہدایہ میں ہے : الاصح ان وقتها بعد العشاء الی آخر اللیل قبل الوتر وبعده ان عبارتوں سے صاف ظاہر ہے کہ تراویح آخر شب میں ، بلکہ وتر ادا کرنے کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہے ۔ لہذا یہ کہنا باطل ہو گیا کہ آخر شب میں جو نفل نماز پڑھی جائے گی وہ تراویح نہیں ہو سکتی ۔ پس حضرت طلق بن علی کی یہ نماز تراویح بھی تھی اور تہجد بھی ۔ نفل کی کی حیثیت سے اس کی رکعات کی تکثیر کوئی قابل اعتراض نہیں ، بلکہ فی الجملہ امر مرغوب فیہ ہے ۔ لیجئے اس دلیل سے بھی تہجد رمضان اور تراویح کا دو جداگانہ نماز ہونا ثابت نہ ہو سکا ۔ اگرچہ پیر اور مرید دونوں نے مل کر اس کی کوشش کی ۔ صحیح ہے : (ما کل یتمنی المرء یدرکه)

  • فونٹ سائز:

    ب ب