کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 99

’’علامہ ‘‘ مئوی سے پہلا سوال قیس بن طلق کی مذکورہ بالا روایت پر ایک بار پھر نگاہ ڈالئے … فی یوم من رمضان اور …… تلك اللیلة …… کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہ واقعہ کسی ایک شب کا ہے ۔ مگر علامہ مئوی فرماتے ہیں : ’’سنن ابی داؤد سے ان کا (طلق بن علی کا) ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اول شب میں تراویح اور آخر میں تہجد پڑھتے تھے ‘‘ میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ ’’پڑھتے تھے‘‘ بصیغہ ماضی استمراری اس واقعہ سے کہاں ثابت ہوتا ہے ۔ استمرار نہ سہی ، تکرار اور کثرت ہی ثابت کیجئے ، مگر اسی واقعہ سے جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے ۔ حمایت مذہب کے جوش میں احادیث کے ساتھ اس قسم کی بے عنوانی یقینا ایک ’’محدث‘‘ کی شان کے منافی ہے ۔ ’’علامہ‘‘ مئوی سے دوسرا سوال مولانا گنگوہی اور ’’علامہ‘‘ مئوی دونوں نے حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ کو اپنے زعم میں تہجد اور تراویح کی مغائرت ثابت کرنے کے لئے تو پیش کر دیا ہے ، لیکن کیا انہوں نے یہ بھی سوچا کہ اس واقعہ میں ایک بات یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ حضرت طلق بن علی نے تہجد کی یہ نماز بالجماعتہ ادا کی تھی اور گنگوہی اور مئوی دونوں حضرات کے قول کے مطابق تہجد ’’غیر تراویح‘‘ ہے تو فقہ حنفی کی رو سے حضرت طلق بن علی اور ان کے تمام مقتدیوں کی یہ نماز مکروہ ہوئی جیسا کہ قاضی خاں وغیرہ میں ہے : التنفل بالجماعة غیر التراویح مکروه عندنا (فتاوی قاضی خاں ۱/۳۲۲)

  • فونٹ سائز:

    ب ب