کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 103

(اپنے عمال کو)خط لکھا :ذمی عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنالباس اپنی پنڈلیوں سے کچھ اٹھاکر رکھیں تاکہ مسلم عورتوں کے لباس سے تمیز حاصل ہوجائے۔ کفار کی مشابہت اختیار کرنے پر شدید وعید وارد ہوئی ہے،خواہ وہ مشابہت ان کی تمام خصائل میں ہویاکسی ایک خصلت میں،چنانچہ صحیح سند سے عبداللہ بن عمرسے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (من تشبہ بقوم فھو منھم) ترجمہ:جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہوتاہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اس حدیث کا کم از کم حکم یہ ہے کہ یہ کفار کی تشبیہ کے حرام ہونے کی متقاضی ہے،اگرچہ اس حدیث کاظاہر تو مشابہت اختیار کرنے والے کے کفر کا تقاضہ کرتا ہے...بہرحال یہ حدیث کفار کے تشبہ کی حرمت کی متقاضی ہےاور حرمت کی علت تشبہ ہی ہے،خواہ کوئی شخص کافروں کی کسی کام میں مشابہت اس لئے اختیار کرے کہ یہ کام کفار کرتے ہیںاور ایسا کم ہوتاہے،یاکسی غرض کی بناء پر کسی دوسرے شخص کی پیروی اختیار کرلے ،بشرطیکہ وہ فعل اصلاً اسی شخص سے ماخوذ ہو۔ بارہویں دلیل عن ابن عمر رضی اللہ عنہماعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :(خالفوا

  • فونٹ سائز:

    ب ب