کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 107

عن ابی عثمان رضی اللہ عنہ قال:کتب إلینا عمر ونحن بأذربیجان یاعتبۃ بن فرقد (إیاکم والتنعم وزیّ أھل الشرک) ترجمہ:ابوعثمان رضی اللہ عنہ سےمروی ہے،فرماتے ہیں:ہم آذربیجان میں تھے، ہمیں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کاخط موصول ہوا،لکھا تھا:اے عتبہ بن فرقد!نازونعم کی زندگی اور مشرکین کے لباس سے بچ کررہنا۔ وعن عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ قال:(ذروا التنعم وزی العجم) وفی لفظ (إیاکم وزی الأعاجم وتنعمھم) یعنی:عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے:نازونعم کی زندگی اورعجمیوں کے لباس سے بچو۔ایک روایت میں یوں بھی وارد ہے:عجمیوں کے لباس اور ان کی طرح عیش وعشرت کی زندگی بسر کرنے سے بچ کررہو۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ایک شادی کی دعوت میں مدعوتھے ،آپ نے اہل دعوت کے کچھ افراد کو عجمی لباس میں ملبوس پایاتووہاں سے چلے آئے اور فرمایا: من تشبہ بقوم فھو منھم.یعنی جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہوتاہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب