کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 109

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بہت سے اصحاب نے کفار کے لباس کی مشابہت اختیار کرنے والوں کے کفر تک کاقول اختیار کیاہے۔ ان احادیث وآثارسے وجہِ استدلال واضح ہورہاہے کہ عورتوں کاچھوٹا،باریک اور تنگ لباس پہننا حرام ہے،کیونکہ یہ کفار کا لباس ہے،اورہمیں لباس کے معاملے میں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔ چودہویں دلیل عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما قال :رأی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی ثوبین معصفرین فقال :(إن ھذہ من ثیاب الکفار فلاتلبسھا) ترجمہ:عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہمااسے مروی ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زرد رنگ سے رنگا ہوا جوڑا پہنے دیکھاتوفرمایا:یہ کافروں کالباس ہے،تم اسے مت پہناکرو۔ وجہِ استدلال ثابت ہوا کہ کفار کالباس پہننا ناجائز ہے،اور یہ کپڑے جنہوں نے عورت کو برہنہ کردیااور اس کے جسم کے مخصوص حصوں کی نمائش کرڈالی،خواہ وہ چھوٹےہوں یاباریک یاتنگ ہوں،سب کے سب کفار کے لباس شمار ہوتے ہیں،ان کی ڈیزائننگ اور تراش خراش کفار ہی کے ہاتھوں سے ہوئی اور مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں مسلم ممالک میں صادر کردیاگیا،پھر مسلم ممالک میں بھی تو ان کے اعوان وانصار موجود ہیں، جنہیں اپنی مسلم بہنوں کی عزت وحرمت پر کوئی غیرت نہیں آتی، اور وہ بے حیائی کے ان ملبوسات کو امپورٹ کرکےانہیںاپنے معاشرہ کے اندررواج دینے میں مصروف ہیں،ان ملبوسات کی مارکیٹنگ کرنے والے درحقیقت روپے پیسے کے پجاری ہیں،جن کے رواج کردہ فیشنی ملبوسات درحقیقت ہمارے اسلامی معاشرہ اور مسلم گھرانوں پر انتہائی خطرناک اجنبی یلغار ہے،فإنا للہ وإنا إلیہ راجعون.

  • فونٹ سائز:

    ب ب