کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 116

وجہِ استدلال عورت کا مرد کے لباس کی ہیئت میں مشابہت اختیارکرناحرام ہے، مشابہت کا معنی یہ نہیں ہے کہ عورت بعینہ مرد کا لباس پہن لے ،نہ یہ مطلب ہے کہ جب عورت مردسے مشابہت کی نیت کرے گی تب مشابہت بنے گی،بلکہ عورت اگر چھوٹالباس زیب تن کرتی ہے تو یہ بھی مرد کے ساتھ مشابہت قرار پائے گی؛کیونکہ مرد کو چھوٹا لباس پہننے کاحکم ہے، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق)مرد کالباس آدھی پنڈلی تک ہوتاہے۔ جب عورت لباس کی تراش خراش میں مرد کی مشابہت اپنائے گی تولامحالہ اس کے اندر مردانہ شخصیت کی جھلک پیداہوگی،جس کی آڑ لیکر وہ خوب بن ٹھن کر (مردوں کی طرح ) بکثرت گھر سے باہر نکلے گی،بازاروں اورمارکیٹوں میں ان کے قدم بقدم چلے گی،مردوں کے مناصب تک پر فائزہونے کی کوشش کرے گی،یوں اپناحق سمجھتے ہوئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی دکھائی دے گی۔ سترہویں دلیل عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال :(لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المخنثین من الرجال والمترجلات من النساء)

  • فونٹ سائز:

    ب ب