کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 118

وجہِ استدلال مردانہ روپ دھارنے اور ان کی مشابہت اختیارکرنے والی عورتوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے،اور لعنت کا معنی ہے:اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکاردیاجانا۔ جب عورت چھوٹالباس پہنے گی تو وہ مردوں کے مشابہ ہوجائے گی،اور جب مردوں کی مشابہت اختیار کرلے گی تو اس کے اندر مردانہ رنگ ڈھنگ پیداہوجائیں گے، پھر کم یا زیادہ اس کے اندر ،مردانہ خصائل کی طرف میلان بڑھتاجائے گا،مشاہدہ اورتجربہ سے اس روش کے سنگین نتائج وعواقب سب جانتے ہیں۔والعیاذباللہ. اٹھارہویں دلیل عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :(لاینظر الرجل إلی عورۃ الرجل، ولا المرأۃ إلی عورۃ المرأۃ.ولا یفضی الرجل إلی الرجل فی ثوب واحد، ولا تفضی المرأۃ إلی المرأۃ فی الثوب الواحد.وفی روایۃ مکان عورتہ (عریۃ الرجل وعریۃ المرأۃ) ترجمہ:ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی،آدمی کی اور عورت،عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے،اور نہ آدمی، دوسرے آدمی کے ساتھ ایک کپڑے کےاندر لیٹے،اور نہ عورت،دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے کے اندر لیٹے، ایک روایت میں(عورۃ) کی جگہ (عریۃ) کے الفاظ ہیں۔(جو برہنگی کے معنی میں ہے)

  • فونٹ سائز:

    ب ب