کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 121

ہیں،کہتے ہیں:میں نے عرض کیا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری شرمگاہوں کی حفاظت کامعاملہ کیساہے؟ فرمایا:سب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو،سوائے اپنی بیوی اور لونڈی کے۔ میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگربہت سے لوگ (ایک ہی گھر میں ) اکٹھے رہتے ہوںتو؟فرمایا:جب تمپوری کوشش سے چاہوکہ تمہاری شرمگاہ کو کوئی نہ دیکھے،تو کوئی نہیں دیکھ سکے گا۔ میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم تنہا ہوں تو کیا کریں؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ لوگ اس کی حیاءکا احترام کریں۔ وجہِ استدلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرمگاہ کی حفاظت کاحکم دیا ہے،عورت اگر چھوٹا یا باریک لباس پہنے گی تو ایک تو اس کے اس عمل میں نصوصِ شرعیہ کی مخالفت پائی جاتی ہے،دوسرا اگر وہ گھر میں ہےتوعورتوں اورمحرم مردوں کااس کی شرمگاہ کو دیکھنا ممکن ہوسکتاہے،اور اگر وہ گھر سے باہر ہے اور عبایہ پہنے ہوئے ہے، (لیکن نیچے چھوٹایاباریک لباس ہے)توکسی وجہ سے عبایہ سرک سکتا ہے، مثلاً: عورت ٹھوکرکھاکر گرسکتی ہے،یاہوا سے عبایہ اڑسکتاہے،یا گاڑی میں بیٹھتے ہوئے یااترتےہوئے عبایہ کی سنبھال غیرمحتاط ہوسکتی ہے،تو ان تمام صورتوں

  • فونٹ سائز:

    ب ب