کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 125

سے کوئی شخص اپنے غلام کا اپنی لونڈی سے نکاح کردے تو اس کے بعد اس (لونڈی)کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے۔ایک روایت میں یوں بھی وارد ہے: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے خادم کانکاح کردے تو اس کی شرمگاہ کی طرف بالکل نہ دیکھے،بے شک اس کی ناف کے نیچے سے ،اس کے گھٹنوں تک ،اس کی شرمگاہ ہے۔(لونڈی کی شرمگاہ مراد ہے۔) وجہِ استدلال جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ لونڈی کی شرمگاہ،مرد کی شرمگاہ جیسی ہے،یعنی ناف سے گھٹنے تک ،اور اس سے ہرلونڈی مرادہے،وہ بھی جوجنسی تسکین کیلئے ہواور وہ بھی جو محض کام کاج کیلئے ہو،لیکن جمہور کی یہ رائے مرجوح یعنی ناقابل قبول ہے ۔ طے شدہ بات یہ ہے کہ پردہ کے تعلق سے آزاد عورت کو،لونڈی سے زیادہ اپنے جسم کو ڈھانپنے کا حکم دیاجائےگا،اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ عورت (خواہ آزاد ہویاغلام)مرد سے کہیں زیادہ اپنے جسم کو ڈھانپنے کا اہتمام کرے گی،لہذا حدیثِ مذکور کی دلالت یہ ہے کہ ایک آزاد عورت اپنےجسم کے ان تمام اعضاء کو ڈھانپنے پرمأمور ہے جوعام طور پہ ڈھکے ہوتے ہیں،لہذا سینہ، کمر، کندھے، اور پنڈلیوں کا رشتہ داروں (مرد ہوں یاعورتیں)کی موجودگی میں ڈھکا ہونا

  • فونٹ سائز:

    ب ب