کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 127

اور مکمل وقار وحیاء پر قائم تھا۔ شیخ محمدبن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں،گھروں کے اندر عورتوں کالباس پاؤں کے ٹخنے سے لیکر ہاتھ کی ہتھیلی تک ہوتاتھا،گویا گھروں کے اندر بھی وہ ڈھکے جسم کے ساتھ رہتی تھیں، جب باہر نکلنا ہوتاتوانتہائی ڈھیلےڈھالے لباس ،جو زمین سے گھسٹتاہوتا میں ملبوس ومستور ہوکر نکلتیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بازوکی مقدار،زمین پہ لٹکانے کی اجازت دی تھی، اس سےز یادہ سے روکاتھا۔ (گویا صحابیات کی خواہش یہ تھی کہ لباس کے دامن کو اس سے زیادہ لٹکنااور زمین سے گھسٹناچاہئے،مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ سے زیادہ اجازت نہیں دی) تئیسویں دلیل عن ابن الحنظلیۃ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: أصلحوا لباسکم، حتی تکونوا کأنکم شامۃ فی الناس ، فإن اللہ تعالیٰ لایحب الفحش ولا التفحش.

  • فونٹ سائز:

    ب ب