کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 128

ترجمہ:ابن الحنظلیۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،فرماتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:اپنالباس درست رکھو،اور لوگوں کے بیچ (اپنے لباس کی پاکیزگی،صفائی ستھرائی اور سنت کی اتباع میں تم ایسے متمیز لگو) جیسے رخسار پر تِل نمایاں ہوتاہے،بے شک اللہ تعالیٰ فحش کو کسی صورت پسند نہیں فرماتا۔ وجہِ استدلال عورت کا چھوٹا،باریک یاتنگ لباس کسی صورت درست نہیں قرار دیا جاسکتا،کیونکہ ایسا لباس شرعی مقاصد اوراسلامی آداب کے خلاف ہے، پھر یہ لباس علماء کی نظر میں بھی قطعی درست نہیں ہے،نہ ہی ان لوگوں کے نزدیک پسندیدہ ہوسکتا ہے جونیکی ،تقویٰ اور استقامت کے منہج پر فائز ہیں،جنہیں اللہ تعالیٰ نے فطرتِ سلیمہ اور روشن دل وضمیر عطافرمائے ہیں۔ توگویا اس قسم کالباس پہننے والی خاتون،حدیث میں وارد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی مخالفت کی مرتکب ہے،جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ امروجوب کیلئے ہوتاہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب