کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 130

چچااورماموں کی موجودگی میں اپنی اوڑھنی نہ اتارے۔ عبداللہ بن عباس فرمایا کرتے تھے :کسی مسلمان خاتون کیلئے جائز نہیں کہ وہ کسی یہودی یاعیسائی عورت کے سامنے بےپردہ آئے،تاکہ وہ مسلم خاتون کے اوصاف اپنے شوہروں کونہ بتاسکیں۔ وجہِ استدلال محفلوں اورشادی ہالوں میں فیشن اورسنگھار کے ساتھ بے پردہ آنے والی مسلم خاتون کو،یقینا دوسری عورتیں دیکھیں گی اور اس بات کاامکان موجود رہے گا کہ وہ اپنے شوہروں یابھائیوں یابیٹوں سے اس کاذکر کردیں،جبکہ عام محفلوں میں فاسق وفاجر قسم کی خواتین کا موجود ہونا بھی ممکن ہوتاہے،بعض اوقات عورتوں کے ساتھ ان کی نوکرانیاں ہوتی ہیں، عین ممکن ہے کہ وہ بدکردار یا کافر ہوں(توپھر ایک مسلم خاتون کیلئےعام محافل یامجالس میں باپردہ آنا اور حشمت وحیاء ووقار کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا کس قدرضروری ہے؟ پچیسویں دلیل عن یعلی رضی اللہ عنہ:أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :رأی رجلا یغتسل

  • فونٹ سائز:

    ب ب