کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 133

ترجمہ:حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ بلند اور پاکیزہ اخلاق پسند فرماتاہے،جبکہ ردی اوررذیل قسم کے اخلاق سے نفرت فرماتاہے۔ وجہِ استدلال عورت کا چھوٹا،تنگ اور باریک لباس پہننا شرعی اخلاق ،دینی آداب اور اعلیٰ اخلاق جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیںکے منافی ہے،اس قسم کے لباس تو انتہائی گھٹیا،رذیل اور ردی اخلاق کے مظہرہیں،جواللہ تعالیٰ کو قطعی ناپسند ہیں،مسلمان تو اس بات پر مأمور ہے کہ وہ اپنے نفس کے شرف ،ارتقاء اور حفاظت وصیانت کا ہمیشہ خیال رکھے اور اہتمام کرے، اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: }قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا Ḍ۝۽ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىهَا 10۝ۭ[ ترجمہ:کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا۔ ستائیسویں دلیل حجاب وسترکے تعلق سےہمارے مؤقف کی یہ بھی انتہائی ٹھوس دلیل ہے کہ کتاب وسنت میں وارد ہرنص،پردہ پوشی،حشمت ووقار،عفت وحیاء،پاکیزگی

  • فونٹ سائز:

    ب ب