کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 135
بے وقوف اور فتنہ پرور ہی کیوں نہ ہوںکے ہاتھ میں موجودہے،آپ کا بے پردہ محافل میں جانا اس بات کو ممکن بناسکتا ہے کہ لوگوںکے ہاتھوں میں موجود آلاتِ تصویر آپ کی تصویرکشی کرلیں اورپھر وہ تمام تصاویربدقماش مردوں، عورتوں میں پھیل جائیں ،یہ کتنی بڑی فضیحت ہے؟ تیسویں دلیل خوبصورت لڑکی کے بدن کی برہنگی،نظرِ بد کا سبب بھی بن سکتی ہے،چنانچہ کوئی عورت یا کوئی قریبی مرد اس کے جسم کو پسندیدہ نظروں سے دیکھ لے اور برکت کی دعا بھی نہ کرے تو عین ممکن ہے کہ وہ نظر بد کا شکار ہوجائے،ویسے بھی جن اعضاء کو عادۃً پردے میں ہوناچاہئے، اگر انہیں کھلا رکھا جائے تووہ لوگوں کی پسندیدہ نگاہوں کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں،(لہذا نظر بد کا احتمال مزید قوی ہو جاتا ہے)توپھر اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گاکہ لباس سے جسم کا ڈھکاہونا، نظربد سے بچاؤبلکہ ہرقسم کے ضرر سے حفاظت کابہترین سبب ہے۔ (ایک مرد کے برہنہ جسم کاحال ملاحظہ کیجئے اور اس سے اندازہ لگالیجئے کہ عورت کے جسم کی برہنگی کس قدرخطرناک ہوسکتی ہے؟) وعن أبی أمامۃ بن سھل بن حنیف قال: مر عامر بن ربیعۃ بسھل بن حنیف وھو یغتسل، فقال: لم أر کالیوم ولا جلد مخبأۃ. فما لبث أن لبط بہ، فأتی بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقیل لہ :أدرک سھلا صریعا.قال: من تتھمون بہ قالوا:عامر بن ربیعۃ.قال: علام یقتل أحدکم أخاہ؟ إذا رأی أحدکم من أخیہ ما یعجبہ فلیدع لہ بالبرکۃ ثم دعا بماء فأمر عامرا أن یتوضأ فیغسل وجھہ ویدیہ إلی المرفقین ورکبتیہ وداخلۃ إزارہ، وأمرہ أن یصب علیہ.قال سفیان: قال معمر، عن الزھری: وأمرہ أن یکفأ الإناء من خلفہ.