کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 146

کی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھیں،اور یہ سب کچھ ایمان باللہ،ایمان بالرسول اور قرآن وحدیث کی اتباع کی برکت سے تھا،اس دور کی عورتیں ایسا لباس زیب تن کیے رکھتی تھیں جو پورے بدن کیلئے ساتر ہوتاتھا، چنانچہ اس مبارک دور کی کسی عورت سے،اپنے رشتہ داروں یا دیگر عورتوں کی موجودگی میں حیاء سوز لباس پہننا جو ان کے جسم کے مستور حصوں کوکھولتاہو،ثابت نہیں۔ اس بہترین سنت پر ،مسلم امہ کی خواتین کا عمل جاری وساری رہا،ہردور میں،حتی کہ ہمارے قریبی دورتک۔ پھر بہت سی عورتوں میں لباس اوراخلاق کے تعلق سے ،ایک بڑا بگاڑ ظاہرہوناشروع ہوا،جس کے بہت سے اسباب تھے ،جن کے بیان کا یہ موقع یامحل نہیں۔ چونکہ سعودی علماء کی فتاویٰ کمیٹی کو بڑی تعداد میں استفسارات موصول ہوتے رہتے ہیں ،جن میں یہ سوال ہوتا ہے کہ ایک عورت کو دوسری عورت کی طرف دیکھنے کی شرعی حدود کیا ہیں؟نیز ایک عورت کا دوسری عورتوںکی موجودگی میں کس قسم کالباس پہنے رکھنا ضروری ہے؟لہذا فتاویٰ کمیٹی تمام مسلمان خواتین کیلئے یہ بیان دیتی ہے : عورت پرفرض ہے کہ وہ ہمیشہ حیاء کاپہلو اختیار کیے رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم

  • فونٹ سائز:

    ب ب