کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 147

نے حیاء کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا ہے،اس حیاء کا کہ جسے اختیار کرنے پر ہرخاتون مامور ہے کا شرعاً وعرفاً تقاضا یہ ہے کہ عورت اپنےجسم کو ڈھانپے رکھے،باوقار رہےاور ہمیشہ ایسے اخلاق کامظاہرہ کرے جو اسے فتنہ یا شک وشبہ کےمواقع سے دور رکھیں۔ قرآن حکیم کاظاہر اس بات پر دال ہے کہ عورت،دوسری عورتوں کے سامنے اپنے جسم کے انہی حصوں کو ظاہر کرسکتی ہے جوعادۃً اپنے گھر میں کام کاج کے دوران اپنے اہل خانہ کے سامنے ظاہرکرتی ہے،اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: [وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَاۗىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَاۗىِٕهِنَّ اَوْ اَبْنَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْٓ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَاۗىِٕهِنَّ ]  ترجمہ:اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں ....الخ اب جبکہ یہی نصِ قرآنی ہے اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی دلالت ہے،توپھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جملہ صحابہ کی عورتوں کا اسی پر عمل برقرار تھا،نیز

  • فونٹ سائز:

    ب ب