کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 148

امت کی دیگر خواتین جو منہج اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروکار ہیں،بھی لباس کے تعلق سے اسی قسم کے (باپردہ لباس) کو اختیار کیے رہیں،اور یہ عمل ہمارے آج کے دور تک برقرار رہا۔ آیت ِ کریمہ میں جس زینت کے ظاہر ہونے کا ذکر ہے اس سے مراد جسم کے وہ حصے ہیں جو عرف وعادت میںگھروں کے اندر کام کاج کے دوران عورت کھلا رکھنے پر مجبور ہے،اور جنہیں ڈھانپنا باعث مشقت ہے، مثلاً: سر، ہاتھ، گردن اور پاؤں ۔ اس سےزیادہ برہنگی کا نہ صرف یہ کہ کتاب وسنت کی کسی دلیل سے جواز ملتا ہے،بلکہ یہ سراسر فتنہ کاراستہ ہے،خواہ دیگر عورتوں کے سامنے ہی کیوں نہ ہو، عورتوں کا آپس میں مبتلائے فتنہ ہونا بھی تو اس معاشرہ میں موجود ہے۔ پھر اس قسم کی عورتیں،دوسری مسلم خواتین کیلئے بُرا نمونہ ثابت ہونگی۔ نیز بے پردگی کے اس لباس میں کافر اور فاحشہ عورتوں کے ساتھ مشابہت کا پہلو بھی موجود ہے،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(من تشبہ بقوم فھو منھم)(مسند احمد، سنن ابی داؤد)یعنی:جو(مردوعورت) کسی بھی قوم کی مشابہت اختیار کریں گے،وہ انہی میں سے ہوں گے۔(قیامت کےدن ان کا حشر انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا) صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے،فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زردرنگ سے رنگے دوکپڑے پہنے ہوئے دیکھا توفرمایا:(إن ھذہ من ثیاب الکفار فلاتلبسھا)یعنی:یہ کفار کالباس ہے،آپ اسے نہ پہناکریں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب