کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 154

شیخ صالح الفوزان سے ایک اورسوال ایک خاتون نے شیخ سے پوچھا:میرے چاربیٹے ہیں،اور میں ان کی موجودگی میں چھوٹالباس پہن لیتی ہوں،اس کاکیاحکم ہے؟ جواب:عورت کیلئےاپنی اولاد یادیگر محارم کی موجودگی میں چھوٹا لباس پہننا ناجائز ہے،ان کی موجودگی میں جسم کے صرف ان اعضاء کو کھلارکھ سکتی ہے جوعادۃً گھروں میں کھلے رہتے ہیں،جوکہ موجب فتنہ نہیں ہوتے،چھوٹا لباس ایک خاتون صرف اپنے شوہر کے سامنے پہن سکتی ہے۔ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین رحمہ اللہ سے ایک سوال ہمارے اس دور میں خواتین مختلف ڈیزائینوں کی پتلونیں پہنتی ہیں،جب انہیں منع کیاجائے توجواب دیتی ہیں:ہم صرف عورتوں کے بیچ پتلون پہنتی ہیں؟ جواب:عورت کیلئے یہ لباس(پتلون)پہننا ناجائزہے،خواہ وہ عورتوں اور رشتہ داروں کے درمیان ہی کیوں نہ ہو...مزیدفرمایا:عورت تو اپنا جسم ڈھانپنےکا نیز کشادہ قسم کا لباس زیب تن کرنے کاحکم دی گئی ہے،لہذا عورتوں کے سرپرستوں اور نگرانوں پر فرض ہے کہ وہ انہیں پتلون پہننے سے روکیں اورصرف وہ لباس پہننے دیں جو مسلم معاشرہ میں مروج ہے،ایسا لباس ہر گز نہ پہننے دیں جو کافروں،یہودیوں اور عیسائیوں کے ممالک سے امپورٹ ہواہے۔واللہ اعلم وصلی علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم.

  • فونٹ سائز:

    ب ب