کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 162

شریفانہ لباس پہننے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔بعض فقہاء نے اسے کام کاج وغیرہ کے ساتھ مقید کیا ہے،جبکہ بہت سے فقہاء جن میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی شامل ہیں،نےدیکھنے کے حوالے سے عدمِ اباحت کاقول اختیارکیا ہے۔ بہرحال عورت کے ستر کے تعلق سے فقہاء کی مذکورہ اصطلاح تمام احوال پر محمول نہیں، بلکہ گھر کی چاردیواری کےاندر اور وہ بھی گھریلوکام کاج کرتے ہوئے۔ کام کاج کرتے ہوئے جسم کے بعض حصوں سے کپڑے کا سرک جانا بامرمجبوری یا بصورت غفلت ہوتاہے،نہ کہ قصداً واختیاراً۔ جوشخص فقہاء کے اس قول کو سامنے رکھے اور پھر فقہاء کے دیگرکلام کا تتبع کرے اور اس بارہ میں ان کے اقوال جمع کرے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ عورت کے ستر کے حوالے سے ان کے قول سے وہی کچھ مراد ہے جو ہم نے بیان کردیا۔ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورت کا،دیگر عورتوں کی موجودگی میں ستر وہی ہے جو مرد کا دیگر مردوں کی موجودگی میں ہے،یعنی :ناف سے گھٹنے تک، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ عورتیں،دیگر عورتوں کی موجودگی میں چھوٹے کپڑا پہننا شروع کردیں جو صرف ناف سے گھٹنے تک کوڈھانپنے والے

  • فونٹ سائز:

    ب ب