کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 165

ایک شاعر نے کیاخوب کہا: وینشأ ناشیٔ الفتیان فینا علی ما کان عودہ أبوہ ہمارا چھوٹا بچہ انہی اخلاق وخصائل پر پروان چڑھتاہے،جن کا اس کاوالد اسے عادی بنادے۔ ہمارے شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ضروری ہے کہ لباس کے معاملے میں اولاد کی بچپن ہی سے تربیت کی جائے،چھوٹی بچی کو بچپن ہی سے جس لباس وغیرہ کا عادی بنادیاجائے،بڑھاپے تک اسے اختیار کیے رہتی ہے،اور اسے چھوڑنا اس کیلئے ناممکن ہوتاہے۔ شیخ صالح بن العثیمین رحمہ اللہ سے ایک سوال کچھ عورتیں اپنی چھوٹی بچیوں کو چھوٹالباس پہناتی ہیں،جس سے ان کی پنڈلیاں ظاہر ہوتی ہیں،کیانصیحت فرمائیں گے؟ فرمایا:میری رائے یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی چھوٹی بیٹی کو ایسا لباس ہرگز نہ پہنائےـ:ـ کیونکہ جب وہ ایسے لباس کی عادی ہوجائے گی تو پھر اسی پر قائم رہے گی اور اسے انتہائی ہلکا لیتی رہے گی،لڑکی اپنے بچپن ہی سے اگر حشمت وحیاء جیسے

  • فونٹ سائز:

    ب ب