کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 166

خلق کی عادی ہوگی تو بڑھاپے تک اسی اخلاق پر قائم رہے گی۔ میں اپنی تمام مسلمان بہنوں اوربیٹیوں کو نصیحت کرتاہوں کہ وہ غیرملکیوں کالباس یکسر ترک کردیں، وہ تو ہمارے اور ہمارے دین کے دشمن ہیں،اوراپنی بچیوں کولباسِ ساتر کا عادی بنائیں،نیز انہیں زیورِ حیاء سے آراستہ کریں؛کیونکہ حیاء ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے۔ چندگزارشات پر غوروفکر کی دعوت (۱) کیاآپ بحیثیت والد ہونے کے اپنی بیٹیوں کیلئے خیرخواہ ہ یں یا بدخواہ اور دھوکہ باز؟درج ذیل حدیث پڑھ کر جواب دیجئے: عن معقل بن یساررضی اللہ عنہ قال: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول:ما من عبد استرعاہ اللہ رعیۃ، فلم یحطھا بنصیحۃ الا لم یجد رائحۃ الجنۃ.(صحیح بخاری:۷۱۵۰) وفی روایۃ ثم لایجھد لھم وینصح الا لم یدخل معھم الجنۃ. (صحیح مسلم:۱۴۲)وفی روایۃ: مامن عبد یسترعیہ اللہ رعیۃ ،یموت یوم یموت وھوغاش لرعیتہ،إلا حرم اللہ علیہ الجنۃ.(صحیح بخاری:۷۱۵۱،صحیح مسلم:۱۴۲اور یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں) ترجمہ:معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،فرماتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

  • فونٹ سائز:

    ب ب