کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 168

تربیت کی اس جولان گاہ میں ضروری ہے کہ ہم اسلام کے عمدہ اور خوبصورت آداب پر قائم رہیں،ٹھوس ارادے اورپختہ عزم کے ساتھ،کسی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کے بغیر۔ خبردار!ضروری ہے کہ ہم ان کے ہاتھوں کوتھام لیں اور پوری قوت کےساتھ ان کا رُخ حق کی طرف موڑ دیں،اور ان کاہر معاملہ دینِ حق پر پوری طرح قائم کردیں،انہیں ایسا بے لگام نہ چھوڑ دیں کہ شیطان ان کا شکار کرنے میں کامیاب ہوجائے،یا وہ خود اپنی خواہشات کی اسیر بن جائیں،ناپختہ عقل وشعور کی بناء پر شدید حرص کے ساتھ ان عورتوں کا پیچھا شروع کردیں جنہیں شریعت نے مائلات ممیلات کہاہے۔(یعنی:مائل ہونے والی اور اپنی طرف مائل کرنے والی) جووالدین اپنے اولاد کے تعلق سے ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائیں وہ ان کے خیرخواہ اور ان کے لباس وغیرہ کے تعلق سے کوشش کرنے والے شمار ہونگے۔ اور جو والدین ایسا نہ کرسکے وہ ان کے بدخواہ اور دھوکہ باز قرارپائیں گے۔نسأل اللہ العافیۃ. اے نیک باپ! اور اے نیک والدہ!اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر خوب تدبر کرلو: [يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ] 

  • فونٹ سائز:

    ب ب