کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 170

نہیں ہے۔ فنِ تربیت میں حکمت کاتقاضہ یہ ہے کہ اسی عمر سے بچوں کے ہاتھوں کو پکڑا جائے، اور انہیں اس شیطانی،ماسونی ،علمانی اور مغربیت کے سانچے میں ڈھالنے والی دلدل سے نکالاجائے،تربیت کی کوشش والدین کی ذمہ داری ہے،جبکہ کامیابی منجانب اللہ ہے، تربیت میں صحیح اسلوب اور بہترین طریقہ کار وہ شمارہوتاہے جس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کاعنصرہو۔ ایک اور تعجب خیزعذر اس عذر پر جتنا تعجب کریں کم ہے،کچھ مائیں یہ سمجھتی ہیں کہ پورے جسم کیلئے ساتر خوبصورت لباس بازار میں میسر ہی نہیں ہیں،لہذا اپنی بچیوں کو مجبوراً عریاں قسم کے لباس پہنانے پڑتے ہیں۔ اس کاجواب یہ ہے کہ یہ سوچ اگر واقعۃ درست بھی تصور کرلی جائے،پھر بھی یہ عریاں لباس پہنانے کیلئے قابل قبول عذر نہیں بن سکتی،جبکہ امرِ واقع یہ ہے کہ بازاروں میں عمدہ قسم کے ساتر لباس بکثرت موجود ہیں،ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ایسے ہی لباس تلاش کرنے اور خریدنے کا ارادہ کرلیاجائے،پھر اگر عریاں قسم کے لباس ہی میسر ہوں تو انہیں خریدنے کے بعد اچھی ڈیزائیننگ کے ساتھ ساتر بنایاجاسکتاہے،اور یہ بھی تو ممکن ہے کہ بازار سے کھلاکپڑا لیکر اپنی

  • فونٹ سائز:

    ب ب