کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 175

جو شرعاً وعقلاً قبیح شمار ہوتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرمایاکرتے تھے:اللہ کی قسم! آج جو مرد اپنی بیوی کی ہرخواہش پوری کرنے کی کوشش میں لگارہے گا،اللہ تعالیٰ اسے اوندھا کرکے جہنم میں ڈال دے گا۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:وہ کپڑے جو عورت کے جسم کے نشیب وفراز نمایاں کرتے ہیں،یاباریک ہونے کی وجہ سے اس کے جسم کیلئے ساتر نہیں بن پاتے،عورت کیلئے پہننا حرام ہے،اور عورت کاجوبھی سرپرست ہو مثلاً:باپ یاشوہر،اسے اس قسم کا لباس پہننے سے منع کرے۔ (۵)دین تو صرف خیرخواہی کانام ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ] ترجمہ:اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب