کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 185

عدالت میں گواہی دینے والا عندالضرورت عورت کے چہرہ کودیکھ سکتاہے۔ اگر کسی مرد اور عورت کے درمیان کوئی خرید وفروخت کامعاملہ ہو، تو ضرورت کے تحت پہچان کیلئے مرد ،عورت کی طرف دیکھ سکتا ہے ،بشرطیکہ اس کے علاوہ اور کوئی شکل ممکن نہ ہو،اور بشرطیکہ عورت جوان نہ ہو،لیکن امرِظاہر یہ ہے کہ اس قسم کے معاملے کوترک ہی کردیاجائے۔(واللہ اعلم) اللہ تعالیٰ نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے،اس کافرمان ہے: [قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ 30؀ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ](النور:۳۰،۳۱) ترجمہ:مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں اللہ ان سے خبردار ہے ۔اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں ۔ مذکورہ صورتوں میں اجنبی مردوں کیلئے گو عورت کی طرف دیکھنا جائز ہے،مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ لذت وشہوت کی نظر سے نہ ہو،اور نہ ہی کسی قسم کے فتنے

  • فونٹ سائز:

    ب ب