کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 24

یہ حدیث عورت کے قدموں کے ڈھانپنے کے وجوب کی دلیل ہے۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کے پاؤں پردہ ہیں، جنہیں نماز میں کھلا رکھنا جائز نہیں ہے.... ایک آزاد عورت کا اپنے لباس کو زمین کے ساتھ مس کرتے ہوئے چلنا سنت میں معروف ہے،اور امت کے نزدیک بھی مشہور ہے،عبدالرحمن بن حسان بن ثابت کا یہ شعر آپ نہیں دیکھتے: کتب القتل والقتال علینا وعلی المحصنات جر الذیول یعنی:لڑائی تو ہم مردوں پرفرض ہے،جبکہ پاکدامن عورتوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے دامن کو لٹکائے رکھیں،اس قدر کہ وہ زمین کے ساتھ گھسٹتا رہے (یعنی:مکمل حجاب میں رہتے ہوئے اپنے شرف کی حفاظت کریں) میں کہتاہوں :ـابن عبدالبر رحمہ اللہ کے مذکورہ قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کے پاؤں صرف نماز کے اندر پردہ ہیں ،بلکہ ان کے اس قول کا معنی یہ ہے (واللہ اعلم)کہ یہ حدیث عورت کے پاؤں کے مطلقاًپردہ ہونے کی دلیل ہے،جس کاتقاضا یہ ہے کہ عورت کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے پاؤں نماز

  • فونٹ سائز:

    ب ب