کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 31

ترجمہ:عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے۔ اس آیتِ کریمہ سےوجہِ استدلال یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے عورت کیلئے، اپنی جیسی عورتوں یااپنے محرم مَردوں کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے میں کوئی فرق نہیں رکھا، لہذا دونوں کاحکم ایک ہوگا۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ عورت اپنے محرم مَردوں کی موجودگی میں جسم کے وہی حصے ظاہر کرسکتی ہے جو عادۃً ظاہر رہتے ہیں،مثلاً:چہرہ،ہاتھ اور پاؤں۔ دلائل 1پہلی دلیل :اس کی پہلی دلیل صحیح مسلم کی روایت ہے،جسے امام مسلم نے اپنی سند سے صفیہ بنت شیبہ سے روایت فرمایا ہے،وہ فرماتی ہیں:سیدہ عائشہ صدیقہ ر ضی اللہ عنہا نے (حجۃ الوداع کے موقع پر)عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگ دواجرلے کر لوٹیں اور میں ایک ہی اجر کے ساتھ لوٹوں؟تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر ر ضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں (احرام کیلئے) عائشہ ر ضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:مجھے عبدالرحمن نے اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھالیا،میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب