کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 33

(اب وہ بڑاہوچکاہے)اس کے بارہ میں آپ کیافیصلہ فرمائیں گے؟ (واضح ہو کہ اس حدیث میں سہلہ نے اپنے بارے میں (أنا فضل) کے الفاظ استعمال کئے ہیں،جس سے مراد وہ عورت ہے جو کام کاج یا سونے والالباس پہنے ہو۔) ابن الاثیر اپنی کتاب (النھایہ) میں(أنا فضل) کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یعنی میں کام کاج کا لباس پہنے ہوتی تھی،کہاجاتاہے:(تفضلت المرأۃ) جب وہ کام کاج کالباس پہنے ہو،یعنی ایک کپڑازیب تن کئے ہو۔اگر آدمی نے ایک کپڑا یا کام والا لباس پہناہوتو اسے بھی (فضل)کہاجاسکتاہے۔ مشہور جاہلی شاعرامرؤالقیس کا شعرہے: فجئت وقد نضت لنوم ثیابھا لدی الستر إلا لبسۃ المتفضل یعنی:میں اس کےپاس آیا جبکہ وہ سونے کیلئے اپنالباس اتار چکی تھی اورصرف لبسۃ المتفضل یعنی کام کاج یا سونے والالباس زیب تن کئے ہوئے تھی۔ ابن الانباری اس شعر کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یعنی :اس کے جسم پر صرف شعار یعنی اندرکالباس تھا،اس لباس میں عورت عام طورپہ گھر میں اٹھتی بیٹھتی اور سوتی ہے،(متفضل) اس مرد یا عورت کو کہاجاتاہے جس پر ایک ہی کپڑاہو،اسے( الفضل) بھی کہتے ہیں۔ 3تیسری دلیل :صحیح بخاری کی حدیث ہے جسے امام بخاری اپنی سند سے بروایت عائشہ صدیقہ ر ضی اللہ عنہا لائے ہیں،وہ فرماتی ہیں:(ومامست یدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدامرأۃ إلا إمرأۃ یملکھا)یعنی:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، سوائے اس عورت کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مِلک میں ہوتی۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر (مصافحۃ ذی محرم)کاباب قائم کیا ہے،یعنی: محرم عورت سے مصافحہ کاجواز۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب