کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 37

اس اثر کی سند صحیح ہے۔ یہاں ایک شرط ملحوظ رکھی جائے گی اور وہ یہ کہ یہ کپڑے ایسے (تنگ یا باریک )نہ ہوں کہ جن سے عورت کے اعضاء کا ہجم جھلکتاہو،اس کی دلیل مسند احمد میں اسامہ بن زید سےمروی ایک حدیث ہے،امام احمد فرماتے ہیں:ہمیں ابوعامر نے بیان کیا،وہ کہتے ہیں: ہمیں زہیریعنی ابن محمد نے بیان کیا،وہ عبداللہ یعنی ابن محمد بن عقیل سے روایت کرتے ہیں،وہ ابن اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہیں،وہ اپنے والد اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہیں،فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبطی چادر جو موٹی تھی پہنائی،یہ چادرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دحیہ کلبی نے ھدیہ کی تھی،میں نے وہ چادر اپنی بیوی کو پہنادی۔ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا:تم وہ قبطی چادر کیوں نہیں پہنتے؟ میں نے عرض کیا: وہ میں نے اپنی بیوی کو پہنادی ہے،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مرھا فلتجعل تحتھا غلالۃ،إنی أخاف ان تصف حجم عظامھا) یعنی:اسے حکم دوکہ وہ اس کے نیچے کوئی دوسراکپڑا(بنیان وغیرہ)پہنے،مجھے ڈر ہے کہ اس چادر سے اس کی ہڈیوں کاحجم نہ جھلکتاہو۔ اس حدیث کی سند میں قدرے ضعف ہے،لیکن ابوداؤد میں مروی دحیہ بن

  • فونٹ سائز:

    ب ب