کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 41

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ہند بنت حارث (جس کے طریق سے یہ حدیث مروی ہے)کی قمیض کی دونوں آستینوں میں،انگلیوں کے درمیان بٹن لگے ہوئے تھے۔ حافظ ابن حجر اس کامطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:چونکہ ان کی قمیض کی آستینیں کافی کشادہ تھیں،لہذا انہیں خدشہ تھا کہ جسم کا کوئی حصہ اس کشادگی کی وجہ سے ظاہر نہ ہو،چنانچہ وہ بٹنوں کے ساتھ آستینوں کو بندکرکے رکھا کرتی تھیں،مبادا اللہ تعالیٰ کی اس وعید (کاسیۃ عاریۃ)کے زمرے میں داخل نہ ہوجائیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہی وجہ ہے کہ عورت کو نماز میں اوڑھنی اوڑھے رکھنے کا حکم دیاگیا ہے،البتہ اس کا چہرہ ،دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں ،انہیں اجنبی مردوں کے سامنے کھلا رکھنے سے منع کیاگیاہے،عورتوں اور ذومحرم مردوں کی موجودگی میں کھلارکھنے سے نہیں روکاگیا،جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ( تینوں اعضاء )اس پردہ کے حکم میں نہیں ہیں جسے مرد،مردکی موجودگی میں اور عورت ،عورت کی موجودگی میں ڈھانپے رکھتی ہےاور جسے ایک دوسرے کے سامنے کھلا رکھنا منع ہے؛تاکہ شرمگاہ کے کھلا رکھنے کی قباحت اور فحش سے بچاجاسکے۔مذکورہ اعضاء کی نمائش مقدماتِ فاحشہ میں سے ہے،لہذا انہیں کھلا رکھنے کی ممانعت،درحقیقت مقدماتِ فاحشہ کی ممانعت ہے۔تبہی تو اللہ تعالیٰ نے [ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ۰ۭ ](النور:۳۰)فرمایا،یعنی پردے کایہ حکم تمہاری پاکیزگی کا باعث ہے،جبکہ آیۃ الحجاب میں فرمایا]ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِهِنَّ ۭ [(الاحزاب:۵۳) یعنی: پردےکایہ حکم تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کا باعث ہے۔گویا ان اعضاء کو ڈھانپنے کاحکم ذریعۂ فحش کے سدِ باب کے طور پر ہے،اس لئے نہیں کہ یہ اعضاء مطلقاً شرمگاہ کے حکم میں آتے ہیں،نہ نماز میں اور نماز سے باہر،عورت کیلئے نماز میں ہاتھ ڈھانپنے کا حکم انتہائی بعید ہے،ہاتھ بھی تو چہرہ کی طرح سجدہ کرتے ہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب