کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 48

جبکہ ستر ڈھانپے رکھنا اور لباس زیب تن کئے رکھنا،رحمٰن عزوجل کی طرف سے ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ]يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا ۭوَلِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ ۭذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ 26؀[ ترجمہ:اے بنی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑ یں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عورتیں اپنے لباس کے دامن کو (ہاتھ ہاتھ بھر) لٹکاکر نکلا کرتی تھیں،تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو ڈھکنے اورپردہ کرنے کاحکم دیا ہے اس پر بھرپور عمل ہو جائے ۔ محمد بن عمارہ بن عمرو بن حزم کے طریق سے مروی ہے،وہ محمد بن ابراھیم سے ،وہ ابراھیم بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد سے روایت کرتےہیں،انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے (دامن لمبا رکھنے کی بابت سوال کیا)توام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :میں اپنا دامن لمبا رکھنے والی ایک خاتون ہوں،بعض اوقات ناپاک جگہ سے گزرنا پڑتا ہے؟تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(یطھرہ مابعدہ )بعد والی پاک جگہ اسے پاک کردے گی۔ ایک اور روایت اس کے شاہد کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے،چنانچہ موسیٰ بن عبداللہ بن یزید،بنوعبدالأشھل کی ایک عورت سے روایت کرتے ہیں،اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:ہمارے مسجد کے راستے میں کچھ ناپاک جگہیں بھی آتی ہیں،بارش ہونے کی صورت میںہم (اپنے لباس کے مس ہونے کا ) کیاکریں؟تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ألیس بعدھاطریق ھی أطیب منھا ؟)کیا اس کے بعد پاک جگہ نہیں آتی؟عرض کیا: ـکیوں نہیں،فرمایا:وہ پاک زمین،اس ناپاک زمین کی بدل ہے۔(یعنی پاک زمین سے مس کی وجہ سے ناپاک زمین سے مس والاکپڑا پاک ہوجائےگا۔)

  • فونٹ سائز:

    ب ب