کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 55

جامہ پہنانے کیلئے پہلا مشورہ یہ دیا کہ چھوٹا ،باریک اور تنگ لباس ،عورتوں اورمحرم مردوں کے سامنے زیب تن کرنے میں کوئی حرج نہیں، یہ شیطان کے پروگرام یعنی عورتوںکو بے حیائی کا لباس پہنانے کیلئے نقطۂ آغاز تھا،جسے عورتوںکے دل میں انجانےپن یاپھر جان بوجھ کر نفوذحاصل ہوگیا،یوں شیطان اپنے تابڑتوڑ حملوں کےذریعےان ملبوساتِ فضیحت کی محبت ان کے دلوں میں داخل کرنے میں کامیاب ہوگیا،پھرشیطان کی سازشوں کی وجہ سے نفسِ امارہ کا بھی تو ایک مضبوط کردارہے۔ اس پہلے مرحلہ میں کامیابی حاصل کر کے شیطان کیلئے عورتوںکو وہاں تک لیجانا ممکن اور آسان ہوگیا،جہاں تک وہ لےجاناچاہتاتھا،شیطان کے پاس بنی اسرائیل کے تعلق سے کامیاب سابقہ تجربہ بھی تو موجودتھا،ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: (إن أول فتنۃ بنی اسرائیل کانت فی النساء) یعنی:بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کے تعلق سے تھا۔ بے حیائی کے ملبوسات میں تدریجی اسلوب تھوڑے عرصے کی بات ہے،خواتین اور ان کے خاندانوںمیں،بلکہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب