کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 57

والدین اس جدت سے مضطرب ضرور تھے، مگر یہ سوچ کر چشم پوشی سے کام لے لیتے کہ ہم اپنی بیٹی سے مطمئن ہیں کہ وہ اس لباس میں ملبوس بے پردہ ہوکر گھر سے باہر نہیں جائے گی۔ پھر اس فیشن نے ایک اورکروٹ لی،لباس مزید سکڑااور سکڑتا ہی چلاگیا،حتی کہ عورتوں کی جسم کی خفیہ پرفتن گوشوں کی نمائش ہونے لگی ،مگر شروع شروع میں بے حیائی کا یہ لباس گھر کی عورتوں اور رشتہ داروں تک محدود تھا،پھر بہت جلد فیشن کے اس سیلاب نے نیز پرفریب ہاتھوں نےایک سے بڑھ کر ایک بدترین ماڈل اور ڈیزائن کے لباس میں ملبوس کرکے ، اس نیم برہنہ عورت کو جہاں تک چاہا دھکیل دیا،پھر بھی اجنبی مردوں کے پاس سے گزرتے ہوئے مذکورہ لباس پر، بوقتِ ضرورت اوڑھنیاں استعمال کرنے کی پابندی باقی رہی۔ اس مرحلے میں شیطان نے اس خاتون کو اپنی ایک اور حجت کی تلقین کرڈالی،چنانچہ اس عورت کی زبان سے شیطان نے یوں بولنا شروع کردیا:عورت کی شرمگاہ تو محض ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے ،جسے ڈھانپ کر اگر عورت گھر سے باہر نکلے گی تو نہ تو یہ اس کی عزت کاسودا ہے اور نہ وہ اپنے دین اوراخلاق سے منحرف ہوئی ہے؛کیونکہ شریعت نے جس حصے کو شرمگاہ قرار دیا ہے وہ تو ڈھکاہواہے،پھر فلاں نیک عورت یا فلاں نیک بندے کی بیٹی، فلاں

  • فونٹ سائز:

    ب ب