کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 58

محفل میں اسی قسم کے لباس میں دیکھی گئی ہے،نتیجہ یہ نکلا کہ والدین نے بھی اپنی بیٹی کی خواہشات سے سمجھوتہ کرلیااور اپنے زعم میںگویامطمئن ہوگئے یہ سوچ کر کہ ہماری بیٹی بہت سی خواتین سےبہترہے۔ صدقِ نبوت کی ایک نشانی سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے،جس میں یہ الفاظ بھی مذکور ہے: (إن من أشراط الساعۃ أن یظھر الشح...ویظھر ثیاب یلبسھا نساء کاسیات عاریات...أکذاک یاعبداللہ بن مسعود سمعتہ من حبی؟قال :نعم ورب الکعبۃ) ترجمہ:قیامت کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ بخل کامرض پھیل جائے گا...اور عورتوںمیں ایسے ایسےلباس ظاہرہوںگے،جنہیں پہننے کے باوجود وہ برہنہ ہوں گی...(ابوھریرہ رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان فرمارہے تھے،پاس عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرماتھے)چنانچہ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود سے پوچھا:کیا آپ نے بھی میرے پیارے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )سےاس طرح سنا ہے؟انہوں نے فرمایا: ہاں،ربِ کعبہ کی قسم۔ اس حدیث کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے (المعجم الأوسط:۷۵۲)میں روایت کیا ہے، امام ہیثمی (مجمع الزوائد ۷؍۳۲۷)میں فرماتے ہیں:ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کا کچھ حصہ صحیح بخاری میں بھی ہے،اور اس حدیث کے تمام رواۃ صحیحین ہی کے ہیں،محمد بن حارث بن سفیان کے علاوہ،اوریہ بھی ثقہ ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب