کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 60

ہیں:اس حدیث کو احمد نے اور طبرانی نے تینوں معاجم میں روایت فرمایا ہےاور احمد کے تمام رواۃ صحیحین کے رواۃ ہیں۔ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کا کتنا عظیم اورواضح نشان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کے اس قسم کے بڑے بڑے کتنے ہی دلائلموجود ہیں۔ ایک انتہائی بودی اورکمزور حجت برہنگی کے طوفان میں گھرے ہوئے اکثر لوگ،بعض فقہاء کی ایک مرجوح رائے کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں،وہ رائےیہ ہے کہ ایک عورت کی،دیگر عورتوں اور ذی محرم رشتہ داروں کی موجودگی میں شرمگاہ ناف سے گھٹنے تک ہے،جیساکہ مردوں کا دوسرے مردوں کی موجودگی میں یہی ستربنتاہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان فقہاءکی یہ رائے کتاب وسنت کی دلیل سے خالی ہے،پھر اس رائے سے کسی قسم کی دلیل بنتی بھی نہیں ہے،کیونکہ یہ رائے رکھنے والے فقہاء نے کبھی یہ نہیں کہا کہ لڑکیوںکیلئے چھوٹااورباریک لباس پہننا جائز ہےاورنہ یہ کہا ہےکہ وہ اپنے سینے،کمریں،پیٹ اورپنڈلیاں گھر کے اندردوسری عورتوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھلا رکھ سکتی ہیں،جب گھر کے اندر جائز نہیں توپھر شادی ہالوںاور تفریحات کے مراکز میں قائم محفلوں میں کیونکر جائز

  • فونٹ سائز:

    ب ب