کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 62

کیلئے چھوٹے ،باریک اور تنگ ملبوسات کا استعمال جائز نہیں ہے،حتی کہ عورتوں اور محرم رشتہ داروں کی موجودگی میں بھی نہیں،تاکہ عریانیت اور بے حیائی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے،اور تاکہ اغیار واجانب کی موجودگی میں بھی عریانیت کےہراندیشہ کا سدباب ہوجائے۔(یعنی جب ایک خاتون بے حیائی کا لباس پہن کر عورتوں اور محرم مردوں کےسامنے آنے سے گریز کرے گی تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس قسم کے لباس میں اجنبی مردوں کاسامنہ کرے ) لہذا نوجوان لڑکیوں کے چھوٹے اور باریک لباس کے پہننےاور کامل زینت اختیار کرکے گھر سے باہر نکلنے کے حرام ہونے میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیںہوناچاہئے؛ کیونکہ یہ پرلے درجے کی بے حیائی ہے۔ جولوگ اسے جائز قرار دیتے ہیں اور بطورِ دلیل بعض فقہاء کا وہ ضابطہ پیش کرتےہیں جس میں انہوںنے ناف سے گھٹنوں تک شرمگاہ کا تعین کیا ہے،وہ درحقیقت علماء اور شریعتِ اسلامیہ پر ایک انتہائی غلط بہتان قائم کرنے کے مرتکب ہیں، بھلاجوشخص اس مسئلہ میں علماء کرام کی احتیاط سے آگاہ ہو اور شریعت کے مقاصد سے بھی واقف ہو وہ کیسے اس بے حیائی کو جائز قرار دے سکتا ہے؟ متقدمین میں سے کسی عالم نے جس کاقول قابل اعتماد ہو ،ایسا کچھ کہاہے کہ عورت اپنی ناف سے لیکر گھٹنے تک کے حصے کو ڈھانپ لے اور پھر پوری زیب وزینت کے ساتھ خواتین کی محفل یا اپنے محارم کی تقاریب میں حاضر ہوجائے؟] سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ 16؀[

  • فونٹ سائز:

    ب ب