کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 63

جس شخص کی امتِ محمدیہ کی وسیع تاریخ پر نظر ہے اور وہ اسلامی مملکت اور مسلمانوں کے پھیلاؤ سے آگاہ ہے نیز یہ حقیقت بھی جانتا ہے کہ مختلف شہروں اورزمانوں میں مسلمان خواتین کے وقار اور پردہ کا عالم کیا تھا،(جبکہ فقہاء کاذکر کردہ مذکورہ ضابطہ کتب ِ اہل علم میں اس وقت بھی موجود تھا )وہ یقینا علماء کاکلام اور مراد سمجھ جائے گا؛کیونکہ مسلم خواتین کا عمل ہی قرنا بعد قرن علماء کے کلام کی سچی تفسیر وتعبیر ہے،یقینا عورت کے ستر کے حوالے سے فقہاء کے مذکورہ ضابطہ کی صحیح مراد کا انہیں فہم تھا ؛کیونکہ اس دور میں فہم وفکر انتہائی دقیق اور قوی تھا،لہذا جو مراد آج بعض لوگ لے رہے ہیں وہ غیرصحیح ہے،یہ بعد میں آنے والے ناخلف قسم کی خواتین کے ذہنوںکی پیداوار ہے،جن کا تقویٰ بھی کم ہے اور فہم وقصد بھی انتہائی برا ہے، اللہ تعالیٰ کی نگرانی کاتصور بھی ان کے دلوں میں انتہائی کمزورہے،ان عورتوں کا یہ فہم اپنی سمجھ داری کی ڈھینگیں مارنے کے سوا کچھ نہیں (یہ فہم نہیں بلکہ کج فہمی ہے)یہ خواتین کیا تاثر دینا چاہتی ہیں،یہ کہ وہ سابقہ ادوار کی دیندار خواتین سے زیادہ مضبوط رائے رکھتی ہیں؟ان سے زیادہ گہری نظر کی حامل ہیں؟ان سے زیادہ عمیق فہم کی مالک ہیں؟

  • فونٹ سائز:

    ب ب