کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 69

اللہ تعالیٰ نے عورتوںکو زینتِ باطنہ کے ظاہر کرنے سے منع فرمادیا ،البتہ ان مردوں کے سامنے ظاہر کرسکتی ہیں جن کا استثناء قرآن کی آیت میں موجودہے،قرآن مجید نے تو آیت میں مذکور افراد کے سامنے ،جس زینت کو ظاہرکرنے کو جائز قرار دیا ہے ،اسے مطلق رکھا ہے (یعنی اس زینت کی تحدید نہیں فرمائی)تحدید کیلئے ان نصوص کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جو اس مقام کیلئے مفسِر کی حیثیت رکھتے ہیں،یا پھر جن لوگوں کے دور میں قرآن مجید نازل ہوا یعنی صحابہ کرام کے فہم کی طرف۔ جہاں تک نصوصِ مفسِرہ کاتعلق ہے ،تو ان سے زینت کی اس قدر کو ظاہرکرنے کی وضاحت ملتی ہے ،جسے عورت آیت میں مذکور افراد کے سامنے ظاہرکرسکتی ہے۔ نصوص نے اس تعلق سے نظر میں فرق کیا ہے :ایک وہ نظر ہے جس میں لذت بھی شامل ہے دوسری محض نظر بدونِ لذت ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ]وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ Ĉ۝ۙاِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ Č۝[ ترجمہ:اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں ۔ دوسرےمقام پرفرمایا: ]يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ۭ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَحِيْنَ تَضَعُوْنَ ثِيَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِيْرَةِ وَمِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَاۗءِ ڜ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ ۭ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ ۭ طَوّٰفُوْنَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭكَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 58؀]

  • فونٹ سائز:

    ب ب