کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 76

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے: ]وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ[  ترجمہ:اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اس حوالے سےدیگر بہت سی آیات پائی جاتی ہیں ۔ وجہِ استدلال خارجی مؤثرات سے دور رہتے ہوئے،ان آیات پر غور کرنے والا،اس حقیقت کو پالے گا کہ یہاں مقاصدِ شرعیہ انتہائی جامعیت کے ساتھ،بدرجۂ تمام موجودہیں،نیز مرد وعورت کے تعلق کے حوالے سے حفاظت وحراست کا ایک مضبوط نظام موجودہے،اس مضبوط اورمحکم حصار کی موجودگی میں ایک خوبصورت خاتون کو اپنے پرفتن اورخوبصورت اعضاء کی نمائش کی اجازت کا کوئی تصور ممکن نہیں ،نہ ہی اس امر کی کوئی گنجائش ہے کہ وہ عورتوں اور محرم مردوں کے درمیان ناف سے اوپر اورگھٹنوں سے نیچے اعضاء کی نمائش کرتی پھرے۔ اے اللہ کے بندو!کیا اس شریعت میں جو مصالح کو حاصل کرنے اور

  • فونٹ سائز:

    ب ب