کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 79

وجہِ استدلال اللہ تعالیٰ نے ہماری عورتوں کو دورِ جاہلیت کی عورتوں کی طرح فیشن اور زیب وزینت کے اظہار سے منع فرمادیاہے،گویا یہ آیت کریمہ اپنے منطوق ہی سے مؤمن عورتوں کیلئے چھوٹے،باریک اور تنگ لباس پہننے کی حرمت پر دلالت کررہی ہے،پھر آیت کریمہ نےاظہارِ زینت کی حرمت کیلئے قریبی رشتہ دار یا اجنبی شخص کے مابین کوئی فرق نہیں کیا،جوشخص اس آیت کریمہ کو اجنبی مردوں پر محمول کرے اور رشتہ دار مردوں کے سامنے اظہارِ زینت کو جائز قرار د ے ،اس نے آیت کریمہ کو غلط تاویل سے پیش کیا ہے۔ تخصیص کادعویٰ (کتاب وسنت سے)کسی دلیل یا قرینہ کا متقاضی ہے جو یہاں موجود نہیں۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلمان خاتون کیلئے،دورِ جاہلیت کی خواتین کی مشابہت اختیار کرناحرام ہے،اس مشابہت کاتعلق ان کی ہیئت، طورطریقوں اور لباس وغیرہ، ہرشیٔ سے ہے۔اور یہ حرام کردہ لباس (تنگ ،باریک اور چھوٹے)جاہلی خواتین ہی کی پہچان ہواکرتے تھے۔ عبداللہ بن عمرسے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

  • فونٹ سائز:

    ب ب