کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 82

وجہِ استدلال یہ حدیث اپنے اختصار کے باوجود،اس بات پر صریح ہے کہ عورت کا جسم مکمل پردہ ہے، یہ اس شخصیت کافرمان ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں ، لہذاہمارے لئے ناجائز ہوگا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان رد کردیں،اور اس کی جگہ یوں کہیں کہ ناف کے اوپر اور گھٹنوں سے نیچے پردہ نہیں ہے، اگر کسی کے پاس اس مؤقف پر کوئی صریح دلیل ہو جو استدلال کے قابل ہو توپیش کرے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس پر کوئی دلیل موجود نہیں۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے اپنی اپنی سنن میں،نیز ابن المنذر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،انہوں نے ابوعبیدہ کو خط لکھا: اما بعد:’’جوعورت اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے،حلال نہیں ہے کہ اس کے سترکو اس کے دین والوں کے سوا کوئی دیکھے‘‘ یہاں (عورۃ) سے مراد پورابدن ہے،اگر اس سے مراد ناف سے گھٹنوں تک کا حصہ ہے تو اسے تو شوہر کے علاوہ کسی کیلئے دیکھنا جائز نہیں۔ ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (کل شیٔ من المرأۃ عورۃ حتی ظفرھا)

  • فونٹ سائز:

    ب ب