کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 84

کیاجاسکتاہے ،تو اس سے کہاجائے گا :تمہارے اس مؤقف کی دلیل کہاں ہے؟ اور حقیقت یہ ہے کہ اس مؤقف پر کوئی دلیل موجود نہیں۔ چھٹی دلیل عن علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :(عورۃ الرجل علی الرجل کعورۃ المرأۃ علی الرجل ،وعورۃ المرأۃ علی المرأۃ کعورۃ المرأۃ علی الرجل) ترجمہ:سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آدمی کے،دوسرے آدمی کے سامنے ستر کی وہی حدوحیثیت ہے جو عورت کی آدمی کے سامنے ہے، اور عورت کی دوسری عورت کی موجودگی میں ستر کی وہی حدوحیثیتہے جو کسی آدمی کی موجودگی میں ہوتی ہے۔ اس حدیث کو راوی ابراھیم بن علی الرافعی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف قرار دیاگیا ہے،امام بخاری فرماتے ہیں:اس میں نظر ہے(جرح کاصیغہ )امام ابن عدی نے اسے درمیانے درجہ کا راوی قرار دیا ہے،اس حدیث کو امام حاکم نے اپنی مستدرک میں روایت فرماکر اس پر صحیح الاسناد ہونےکا حکم لگایا ہے۔ (۴؍۱۸۰)جبکہ امام ذھبی اس حکم پر تعاقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:رافعی کو محدثین نے ضعیف کہا ہے،امام سیوطی نے الجامع الصغیر میں اس حدیث پرحسن

  • فونٹ سائز:

    ب ب