کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 85

کی علامت لگائی ہے۔ وجہِ استدلال اس حدیث سے عورت کا،دوسری عورت کی موجودگی میں اپنے آپ کو ڈھانپے رکھنے کا وجوب ظاہرہورہاہے،لہذا اس کیلئے جائز نہیں کہ وہ یہ سوچ کر کہ میں کسی عورت کے پاس ہوں،جسم ڈھانپنے کے تعلق سے کسی غفلت یاکوتاہی کاارتکاب کرے۔ یہ حدیث اس بات پربھی دال ہے کہ عورت کا،دوسری عورت کی موجودگی میں اس قدر اپنے آپ کو ڈھانپنا ضروری ہے،جس قدر گھر کے اندر موجود تمام افراد کی موجودگی میں اپنے آپ کوڈھانپتی ہے؛کیونکہ عورت کیلئے اپنے محرم مرد کے سامنے،محض اس حجت کی بناء پر کہ عورت کی شرمگاہ تو ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے، برہنہ ہونا جائز نہیں ہے۔ ساتویں دلیل عن ابن عمررضی اللہ عنھما قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :(من جر ثوبہ خیلاء لم ینظر اللہ إلیہ یوم القیامۃ) فقالت ام سلمۃ:فکیف یصنع النساء بذیولھن؟ فقال :(یرخین شبرا) فقالت : إذاً تنکشف

  • فونٹ سائز:

    ب ب