کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 91

ترجمہ:اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہمااسے مروی ہے،فرماتے ہیں:مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرے موٹے کپڑے کی قبطی چادر پہنائی،یہ ان چادروں میں سے تھی جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دحیہ کلبی نے بطورِ تحفہ دی تھیں،(اسامہ فرماتے ہیں)میں نے وہ چادر اپنی بیوی کوپہنادی، ایک روزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا:تم وہ قبطی چادرکیوںنہیں پہنتے؟میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ چادر میں نے اپنی بیوی کوپہنادی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی بیوی کوحکم دوکہ وہ اس کے نیچے کوئی دوسراکپڑا بھی پہنے،مجھے ڈر ہے کہ خالی چادر سے اس کی جسم کی ہڈیوں کاحجم نہ نمایاں ہو۔ (قبطی)کی نسبت قبط کی طرف ہے،یہ اہلِ مصر کی ایک نسبت ہے،قبطی چادر باریک ہونے کی وجہ سے جسم کو صحیح طور سے ڈھانپ نہیں پاتی،بلکہ اس سےجسم کے نشیب وفراز جھلکتے ہیں،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کے نیچے (غلالۃ)پہننےکا حکم دیا جس سے مرادوہ کپڑا ہے جو اصل لباس کے نیچے پہناجاتاہے،جسے شعار بھی کہتے ہیں۔ دحیہ بن خلیفہ الکلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس کچھ قبطی چادریں آئیں،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک چادر مجھے عنایت فرمائی اور فرمایا:اس چادر کے دوٹکڑے کرلو،ایک ٹکڑے کی تم اپنی قمیض سلوالو،جبکہ دوسرا

  • فونٹ سائز:

    ب ب