کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 94

ہوں ،پہننا ناجائزہے۔ ابن مفلح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:عورت کیلئے ایسالباس جوباریک ہواورجسم کی کھال کو واضح کرتاہو،پہننا حرام ہے،صرف شوہر یالونڈی کاآقا اس سے مستثنی ہیں۔ نویں دلیل عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :(صنفان من أھل النار لم أرھما، قوم معھم سیاط کأذناب البقر یضربون بھا الناس، ونساء کاسیات عاریات ممیلات، مائلات، رؤوسھن کأسنمۃ البخت المائلۃ، لایدخلن الجنۃ ولا یجدن ریحھا، وإن ریحھا لیوجد من مسیرۃ کذا وکذا)  ترجمہ:دوجہنمی گروہ جو میرے دور میں پیدا نہیں ہوئے (لیکن آگے چل کر ضرور ظاہر ہونگے)ایک وہ قوم جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح کوڑے ہونگے جن سے وہ لوگوںکو ماریں گے،دوسرا گروہ ان عورتوں کا جو لباس پہنی ہوئی ہونگی مگر برہنہ ہونگی، لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود ان کی طرف مائل ہونے والی ہونگی،ان کے سر اونٹنیوں کی کوہانوں کی مانند ہونگے ، یہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب