کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 97

اکرام کرو۔ ابن جریج رحمہ اللہ تابعی عطاء رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں:وہ فرماتے ہیں: عورت اپنی چادر،دوپٹہ اورازار(شلواروغیرہ)میں نماز پڑھے،اور اگر ان سب کے اوپر کوئی اوڑھنی اوڑھ لے تو یہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے،میں نے عرض کیا:اگر قمیض اوردوپٹے میں سے کوئی چیز باریک ہوتوکیاحکم ہے؟ فرمایا: پھر تو اوڑھنی اوڑھنا ضروری ہوگا؛کیونکہ اس کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں۔  برہنہ ہونے سے بچاؤاختیارکرنے اور اس تعلق سے وعید پر مشتمل بہت سی احادیث ہیں۔ ان احادیث سے وجہِ استدلال ان احادیث میں برہنگی کی ممانعت کی انتہائی واضح اورقوی حجت موجود ہے،چنانچہ عورتوں کی ایک صنف کیلئے سخت ترین وعید اور تہدیدکے تناظرمیں (کاسیات عاریات) کالفظ استعمال ہواہے،جس کی تفسیر یہ ہے کہ اس نوع کی عورتیں ایسالباس پہنتی ہیں یاپہنیں گی جو جسم کیلئے ساتر نہ ہوگا،یاتو اس لئے کہ وہ لباس چھوٹا ہے ،یاباریک ہےیا پھر تنگ ہے،لہذا وہ لباس توپہنی ہوں گی مگردرحقیقت برہنہ ہوں گی۔ ایک مسلمان عورت کالباس تو لمبا،پورے جسم کوڈھانپنے والا،موٹا اورکشادہ ہوتا ہے۔حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ حدیث کے الفاظ (کاسیات عاریات)کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

  • فونٹ سائز:

    ب ب